مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٦٧
نبی کو نہیں چاہیئے کہ اپنے ہاں قیدیوں کو رکھے یہاں تک کہ ملک میں خوب خونریزی کر لے تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو اور الله آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور الله غالب حکمت والا ہے